مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، ایرانی وزیرِ خارجہ سید عباس عراقچی نے کہا ہے کہ اسلامی جمہوریہ ایران سفارت کاری اور مذاکرات کے پختہ عزم کے باوجود امریکہ اور صیہونی حکومت کے غیر قانونی، جارحانہ اور دہشت گردانہ اقدامات کا نشانہ بنا ہے۔
مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، ڈاکٹر سید عباس عراقچی نے پاکستان کی سربراہی میں منعقدہ ایکو کی وزرائے کونسل کے 27 ویں غیر رسمی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے علاقائی تعاون کو مضبوط بنانے کی اہمیت پر زور دیا۔
عراقچی نے کہا کہ گزشتہ دو برس کی فوجی جارحیتوں میں ایران کے رہبرِ انقلاب، متعدد اعلیٰ فوجی کمانڈروں، 4 ہزار سے زائد شہریوں اور میناب کے 168 بچوں کو شہید کیا گیا، جبکہ اسپتالوں، شہری ہوائی اڈوں اور تاریخی عمارتوں سمیت متعدد بنیادی ڈھانچوں کو بھی نشانہ بنایا گیا۔ تاہم عوام کی مزاحمت اور مسلح افواج کی طاقت کے باعث جارحین اپنے مذموم مقاصد حاصل نہیں کر سکے اور ایران اس تاریخی آزمائش سے سربلند ہو کر نکلا۔
ایرانی وزیرِ خارجہ نے ایکو کے ذریعے اقتصادی و تجارتی تعاون، علاقائی رابطوں اور پائیدار ترقی کے فروغ پر زور دیا اور کہا کہ ایران 3 اور 4 دسمبر 2026 کو تہران میں ایکو کے سربراہان کے 18ویں اجلاس کی میزبانی کرے گا۔
انہوں نے امید ظاہر کی کہ علاقائی اور کثیرالجہتی تعاون کے ذریعے دنیا میں امن، سلامتی اور خوشحالی کو فروغ ملے گا اور عدم استحکام و بدامنی کو ہوا دینے والے یک طرفہ جبری اقدامات اور جارحیتوں کا خاتمہ ہوگا۔
آپ کا تبصرہ